Wednesday, June 8, 2022

کشمیر کاز سے متعلق آزاد کشمیر کے تین بڑے رہنمائوں کا پاکستان سے مطالبہ

Read more »

Wednesday, June 1, 2022

 ! پاکستان میں کشمیر کاز ، یہ تماشہ ہم بھی دیکھیں گے

اطہر مسعود وانی

ہندوستانی مقبوضہ جموں وکشمیر کے آزادی پسند رہنما یاسین ملک کو ہندوستان کی عدالت سے عمر قید کی سزا سنائے جانے پہ پاکستان کی وزارت خارجہ کی طرف سے ہندوستان کے اس اقدام کی مذمت کی گئی ، ہندوستانی ہائی کمشنر کے اہلکار کو طلب کر کے احتجاجی مراسلہ دیا گیا، بیان جاری کیا گیا۔وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کی۔ وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان سے متعلق وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کے مشیر ،پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما قمر الزمان قائرہ نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے نام ایک خط لکھا۔آزاد کشمیر اسمبلی نے ایک اجلاس میں یاسین ملک کو سزا سنائے جانے کے خلاف ایک قرار داد منظور کی گئی اور آزاد کشمیر میں مختلف مظاہرے کئے گئے۔کشمیریوں کی سول سوسائٹی کی طرف سے ہندوستان کے اس اقدام کے خلاف سرگرمی سے آواز اٹھائی گئی۔


اسی صورتحال کے تناظر میںمشیر وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان قمر الزمان قائرہ نے یکم جون کو آزاد کشمیر کے رہنمائوں کی ایک کانفرنس منعقد کی۔قمر الزمان قائرہ نے اس کانفرنس سے پہلے کہا کہ ہماری وزارت کا تعلق بنیادی طور پر کشمیر( آزاد کشمیر و گلگت بلتستان) کے انٹرنل افیئرزسے ہے لیکن ہم نے اس معاملے( کشمیر) کو میڈیا میں ،ہر جگہ اٹھایا ہے۔قائرہ نے کہا کہ کشمیر کانفرنس میں '' کشمیر کا ' وے فاروڈ ڈیزائین کیا جائے گا''۔


کانفرنس میں  وزیر اعظم آزاد کشمیر تنویر الیاس، صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود، سابق وزرائے اعظم راجہ فاروق حیدر، سردار عبدالقیوم نیازی، سردار عتیق احمدخان، چوہدری عبدالمجید، سردار یعقوب، سابق اپوزیشن لیڈر چوہدری یاسین،سابق صدر راجہ ذوالقرنین خان، سابق سپیکر شاہ غلام قادر، چوہدری لطیف اکبر ،مرزا شفیق جرال، سردار حسن ابراہیم،ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ ممتاز زہرہ  ،  حریت کانفرنس کے محمد فاروق رحمانی، فیض نقشبندی اور دیگر رہنمائوں اور افراد نے شرکت کی۔


میڈیا رپورٹس کے مطابق کانفرنس کے میزبان مشیر قمر الزمان قائرہ نے کہا کہ  بھارتی جبر اور مظالم پر تمام سیاسی اکابرین سے رہنمائی لینی ہے، مشاورتی عمل کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کسی ایک جماعت کا نہیں ملک کا معاملہ ہے،جمہوری اور غیر جمہوری دونوں ادوار میں مسئلہ کشمیر کے حل کی کوششیں کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں نے جان اور خون کی قربانیاں دیکر تحریک کو زندہ رکھا ہے۔مسئلہ کشمیر سے متعلق سب کی  رہنمائی حاصل کرنے کے لیے کانفرنس کا انعقاد کیا ہے۔ ججز، بار کونسلز ، صحافیوں ،طلبہ و دیگر سے مسئلہ کشمیر پر مشاورت کریں گے۔پاکستان مستحکم ہوگا تو کشمیر کا مقدمہ زیادہ بہتر لڑیں گے۔ 


صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چودھری نے کہاکہ ہمیں مظاہروں سے نکل کر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے عملی کام کرنا ہوگا۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس نے کہاکہ ہم کشمیر میں اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے آگاہ ہیں۔ سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ ہم نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے سامنے کشمیر کے حوالے سے تجاویز رکھی تھی اورشاہ محمود قریشی کو تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے گیارہ نکات پیش کئے لیکن ہم ان گیارہ نکات پر وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات کا انتظار ہی کرتے رہ گئے۔ انہوں نے کہ ان تجاویز پر عملدرامد کی ضرورت ہے وزارت خارجہ میں کشمیر پر  ایک سیل بنا تھا صرف دو میٹینگز ہو ئیں جن میں ہمیں بلایا لیکن اس کے بعد کوئی میٹینگ نہیں ہوئی۔ کشمیریوں کو خود اپنا کیس دنیا کے سامنے پیش کرنے کا موقع دیا جاے کشمیریوں کی بات زیادہ توجہ سے سنی جائے گی اس کا زیادہ اثر پڑے گا ۔ہمارے سفارتخانوں نے کشمیر پر متحرک کردارادا نہیں کیا۔ سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر عبدلقیوم نیازی نے کہاکہ مسئلہ کشمیر پر لائحہ عمل طے کرنے کے لیے ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے۔سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری عبدالمجید نے کہا کہ ہمیں یکجا ہونے کی ضرورت ہے،ایک موقف لیکر کشمیری اکٹھے ہوجائیں اور حکومت پاکستان سے اس ایشو پربات کریں۔سابق صدر آزاد کشمیر راجہ ذوالقرنین نے کہاکہ مسئلہ کشمیر کو دنیا معیشت کی نظر سے دیکھتی ہے۔پاکستان معاشی طورجتنا مضبوط ہوگا اتنا ہی مسئلہ کشمیر اجاگر ہوگا۔ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ ممتاز زہرہ نے کہا کہ کشمیر پر حکومت پاکستان کی پالیسی نہیں بدل سکتی،کوئی بھی حکومت آئے کشمیر پر پالیسی جاری رکھتی ہے،مقبوضہ کشمیر کے حوالے حلقہ بندی کمیشن کی رپورٹ کو ہم نے مسترد کر دیا، بھارت جبر سے کشمیریوں کو نہیں دبا سکا۔میڈیا کے مطابق کانفرنس سے کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنمائوں نے بھی خطاب کیا اور کشمیر کے مسئلے کے بارے میں مختلف تجاویز پیش کی۔


وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کے وزارت کے مشیر قمر الزمان قائرہ کا یہ کہنا کہ ''ہماری وزارت کا تعلق بنیادی طور پر کشمیر( آزاد کشمیر و گلگت بلتستان) کے انٹرنل افیئرزسے ہے''،  اپنی وزارت کی  ذمہ داریوںسے بے خبری کا اظہار ہے۔وزات امور کشمیر و گلگت بلتستان کے قواعد میں تحریر ہے کہ وزارت امور کشمیر کی ذمہ داریوں میں تنازعہ کشمیر کے حل سے متعلق وہ تمام معاملات آتے ہیں جو خارجہ امور ڈویژن کے دائرہ کار میں نہیں آتے۔اب وزیر اعظم پاکستان کے ایسے مشیرسے خود پہ عائید ذمہ داریوں کی ادائیگی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے کشمیر کاز ہی نہیں بلکہ خود پر عائید ذمہ داریوں سے بھی لا علم ہیں۔کانفرنس کے انعقاد کے بعد قمر الزمان قائرہ کی اس بات کا بھی پوسٹ مارٹم سامنے آ چکا ہے کہ '' کانفرنس میں '' کشمیر کا ' وے فاروڈ ڈیزائین کیا جائے گا''۔


اب یہ بات کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ جنرل مشرف حکومت میں پاکستان نے کشمیر کاز سے جو بڑی پسپائی اختیار کی، اسے مشرف اقتدار کے خاتمے کے بعد بھی پاکستان انتظامیہ نے قومی پالیسی کے طور پراپنا رکھا ہے۔پاکستان انتظامیہ نے مشرف حکومت کے طرح کشمیر کاز پر ایک بڑی پسپائی یوں اختیار کی کہ کشمیر سے متعلق ہندوستان کے ایک بڑے جارحانہ اقدام کے بعد بھی کشمیر سے متعلق اپنی بے عملی کا قومی مفاد سمجھتے ہوئے سختی سے قائم رکھا ہوا ہے۔

ہاں کشمیر پر بیانات ضرور دیئے جاتے ہیں، مقبوضہ جموں وکشمیر کی حالات و واقعات کی رننگ کمنٹری یوں پیش کی جاتی ہے کہ جیسے سب اس سے بے خبر ہوں۔کشمیرکا خون ہماری رگوںمیں دوڑتا ہے ،ہم کشمیرکو کبھی نہیں بھولیں گے، جیسے بیانات دیئے جاتے ہیں لیکن کشمیر کاز سے متعلق کوئی سفارتی سرگرمی بھی شروع نہیں کی جاتی، آزاد کشمیر کو کشمیر کاز سے متعلق کوئی اختیار نہیں دیا جاتا، آزاد کشمیر کو بدستور ' ڈکٹیٹ ' کرتے ہوئے مجبور اور عاجز رکھا جاتا ہے۔


یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ پاکستان میں کشمیر کاز سے متعلق اخلاص کے دعوے مکمل طور پر عریاں ہو چکی ہیں۔ہم ملک میں بیٹھ کر کشمیر کشمیر کریں گے، کشمیر پر ڈرامہ کریں گے، منافقت کر یں گے ، بے عمل ،کھوکھلے بیانات دیتے رہیں گے ،کشمیر پر رننگ کمنٹری کرتے رہیں گے،کشمیریوں پر ترس کھاتے رہیںگے،کشمیریوں کی حالت پہ اظہار افسوس کرتے رہیں گے، اور کچھ نہیں کریں گے۔ بقول شاعر '' اگر یہ دلبری ہے تو دشمنی کا عالم کیا ہو گا''۔یہ تماشہ ہم بھی دیکھیں گے۔پاکستان انتظامیہ، سیاسی قوتوں کو شاید پاکستان کے مفادات کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ پاکستان انتظامیہ اور سیاسی قوتوں کو اس حقیقت کا ادراک کرنا اہم ہے کہ کشمیر کاز سے متعلق عریاں منافقت پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے مترادف طرز عمل ہے۔

Friday, January 30, 2015

عوام مخالف ملکی نظام پر گورنر پنجاب کا عدم اعتماد!
اطہر مسعود وانی

گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے اور اس کی وجہ معاشرتی ناہمواریوں اور انصاف کی ابتر صورتحال کو بتایا ہے۔چوہدری محمد سرور نے مستعفی ہونے کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ یہاں سچ کا قحط ہے قاتل دندناتے پھررہے ہیںلوگوں کے مسائل حل نہ کرسکاملک پر قبضہ مافیاکا راج ہے یہ لوگ گورنرسے بھی زیادہ طاقتورہیںشریف برادران سے کوئی اختلاف ہے نہ استعفے کیلئے کسی نے دباوڈالاملک میں ایک ہی طبقے کوحکمرانی کا حق نہیں ہوناچاہئے ،قوم سے معافی مانگتا ہوں کہ ان کے دکھوں کا مداوا نہیں کرسکا جو ظلم اور ناانصافیاں یہاںمیں نے اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور ان کے خاتمے میں بے بسی کے بعدمیں نے فیصلہ کیا کہ مجھے اس عہدے سے چمٹے رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں لیکن میں قوم سے وعدہ کرتا ہوں کہ اپنے بے بس اور لاچار پاکستانی بہن بھائیوں کو مہنگائی ، بدامنی ، دہشتگردی ، ظلم او ر ناانصافی کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑونگا اور چند روز میںاپنے مستقبل کے بارے میں اہم اعلان کرونگا ۔  چوہدری سرورنے کہاکہ میرے دل میں ہمیشہ پاکستان کے عوام کیلئے یہ خواہش اور تڑپ موجود رہی کہ میں اپنے ملک اور عوام کی ترقی کیلئے کچھ نہ کچھ ضرور کروں اس لگن اور جوش کے ساتھ میں برطانیہ کی شہریت اور کاروبار چھوڑ کر پاکستان آیا تاکہ محروم طبقات کی خدمت کرسکوںاور ہم خوشحالی کی راہ پرگامزن ہوسکیںمیں بہت سے خواب اور ارادے لیکر پاکستان آیا تھا مگر مجھے آج بہت دکھ اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ میں اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر نہ کرسکا ۔ہم چودھری محمد سرور کو شاباش دیتے ہیں کہ انہوں نے ظلم کے اندھیروں میں اپنے حصے کا 'دیا 'جلایا ہے۔
چوہدری محمد سرور نے درست جانب نشاندہی کی ہے جس کی وجہ سے ملک کا نظام عوام کے لئے 'عذاب مسلسل ' بن چکا ہے۔چوہدری محمد سرور کا یہ اقدام پاکستان میں عوام کو درپیش صورتحال کو واضح کرنے کے حوالے سے بھی اہم ہے۔چوہدری محمد سرور نے گورنر پنجاب کے عہدے سے استعفی دیتے ہوئے ایک اچھی مثال قائم کی ہے۔یہ کوشش ہونی چاہئے کہ ملک میں حکومتی، سرکاری اور ادارہ جات میں عوام کے مفاد پر مبنی اصلاح کا عمل فوری بنیادوں پر شروع کیا جائے۔ایسا نہ کرتے  ہوئے ملک کو مزید سنگین صورتحال کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔عوام میں یہ احساس تقویت پا رہا ہے کہ ملک میں عوام کو دوسرے ،تیسرے درجے کا شہری بنائے رکھا گیا ہے اور عوام کا کام ملکی نظام کو چلانے کے شاہانہ اخراجات پورے کرنا ہے ،چاہے اس کے لئے عوام کا خون بھی چوس لیاجائے۔چوہدری محمد سرور نے بالکل درست کہا ہے کہ ملک میں لینڈ مافیا کا راج ہے۔سرکاری ادارے لینڈ مافیا کے معاون کے طور پر نظر آتے ہیں۔ملک بھر کی طرح پنجاب میں بالخصوص لینڈ مافیا کی صورتحال نہایت خراب ہے۔شہروں کی خالی آراضی لینڈ مافیا کی طرف سے دھڑلے سے قبضے کی کاروائیوں کا نشانہ بن رہی ہے۔شہروں کی سرکاری،نجی زمینیں ہی نہیں بلکہ شہروں کے سرکاری پارکوں پر بھی سرکاری اور سیاسی آشیر باد سے لینڈ مافیاکے قبضے جاری ہیں۔چوہدری محمد سرور  نے درست کہا کہ لینڈ مافیا گورنر سے سے زیادہ طاقتور ہے۔لینڈ مافیا کی کئی کاروائیوں میں پولیس اور انتظامیہ کی واضح غیر قانونی آشیر باد دیکھی گئی ہے۔راولپنڈی میں لینڈ مافیا کی طرف سے غیر قانونی قبضے کی متعدد مثالوں میں سے ایک مثال سیٹلائٹ ٹائون کے ایف بلاک میں واقع سرکاری چنار پارک ہے۔راولپنڈی کے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کی طرف سے دو بار کرائی گئی ''ڈیمارکیشن'' میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ چنار پارک کا خسرہ نمبر  لینڈ مافیا کے ملکیتی خسرہ نمبر سے قطعی مختلف ہے لیکن اس کے باوجود پولیس نے غیر قانونی طور پر ،بغیر کسی قانونی اختیار کے لینڈ مافیا کو پنجاب حکومت کے چنار پارک پر قابض کرایا اور اب بھی چنار پارک میں لینڈ مافیا کے مسلح افراد اہلیان علاقہ کیلئے شدید خوف و ہراس کا سبب بنے ہوئے ہیں۔اسی طرح ایک مثال فیض آباد میں واقع بانی پاکستان قائد اعظم کے ساتھی کشمیری رہنما چودھری غلام عباس کے مزارکی کافی زمین پر پولیس کی مدد سے قبضہ کیا گیا ہے۔
سرکاری محکموں ،ملکی اداروں میں عوامی مفاد کی سوچ مکمل طور پر ختم دکھائی دیتی ہے۔شہریوں کو اس طرح' ڈیل' کیا جاتا ہے جیسے پاکستان کوئی مفتوحہ ملک ہو اور اس کے عوام غلام۔اخبارات میں شائع ایک خبر کے مطابق سوئی ناردرن نے گیس چوری کے خلاف الگ تھانے قائم کرنے کی درخواست کی ہے۔یعنی اب ملک کا ہر ادارہ،ہر محکمہ اپنی حاکمیت کو یقینی بنانے کے لئے اپنی فورس اور اپنی ہی عدالتیں بنائے گا ۔واہ میرے ملک کے '' سیاہ و سفید'' کے مالکان!یقینا دنیا میں آپ کے ان '' کارہائے نمایاں'' پرآپ کو شاباش دی جاتی ہو گی کہ کیسے شاندار اور بے مثال اعلی دماغ لوگ ہیں جو واضح طور پر ثابت کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ملک کا نظام اپنے عوام کے مفاد میں چلانے کے قابل نہیں ہیں۔خصوصی معاملات پر خصوصی حالات میں مخصوص انتظامات تو کر لیئے جاتے ہیں لیکن پولیس،انتظامیہ ،عدلیہ اور سرکاری سطح پر کارکردگی عوامی نکتہ نظر سے بہتر بنانے کو لگتا ہے کہ '' خارج از امکان'' قرار دے رکھا ہے۔ہماری رائے میں ملک میں عوام کے خلاف ظلم ،زیادتی،نا انصافی،نااہلی کا سرکاری چلن اپنے خطرات کے حوالے سے کسی طور بھی دہشت گردی کے بھیانک نتائج سے کم نہیں ہے۔سب سے خطرناک بات یہ کہ اس چلن سے عوام کا اعتماد ملکی نظام سے اٹھتا جا رہا ہے۔عوام کے مفاد میںبہتری ،اصلاح کی راہیںمسدود کئے رکھنے سے عندیہ ملتا ہے کہ پاکستان کو ناکام ریاست ثابت کرنے کے لئے سخت کوششیں ہو رہی ہیں ۔

    اطہر مسعود وانی
0333-5176429

Tuesday, July 16, 2013

                  کشمیر کی جنت کا اک رنگ ،نیلم ویلی
                                                                  اطہر مسعود وانی



اس مرتبہ مظفر آباد کا یہ سفر اس لحاظ سے مختلف تھا کہ یہ دورہ بچوں کی طرف سے چھٹیوں کی سیر پہ جانے کے اصرار کے تناظر میں تھا۔کوہالہ کے مقام پر1992ءکے بڑے سیلاب میں تباہ ہوجانے والے ڈوگرہ دور کے پرانے پل کی جگہ بنے عارضی پل سے دریائے جہلم عبور کرتے ہوئے آزاد کشمیر میں داخل ہو ئے تو معمول کے راستے کی جگہ دان گلی بائی پاس کا راستہ اختیار کرنا پڑا کیونکہ کوہالہ کے قریب ہی برسالہ سے پہلے راستہ پہاڑ کا ایک بڑا حصہ لینڈ سلائیڈنگ میں تبدیل ہونے کی وجہ سے بند ہے اور وہاں راستہ بنانے کا کام جاری ہے۔ نئی تعمیر کردہ دان گلی بائی پاس روڈ کے شروع اورآخر کا کچھ حصہ پختہ جبکہ باقی حصہ عارضی کچے راستے کی مانند ہے۔اس تنگ سڑک پہ بڑی گاڑیوں کی آمد سے ٹریفک بار بار رکتی رہی۔بائی پاس کے اس سفر میں ایک گھنٹہ لگ گیا۔10جولائی کوواپسی پہ دیکھا کہ اس سلائیڈ پہ راستے کو کشادہ کیا جا رہا ہے اور اسی کام کی وجہ سے ٹریفک کو ایک ایک گھنٹے بند اور کھولا جاتا ہے۔

سخت گرمی میں شام کے وقت مظفر آباد میں بہترین تفریح دریا پہ جانا ہے،یہ میرے بچپن کا تجربہ تھا جو 2013ءمیں بری طرح ناکام رہا کیونکہ بچوں کو دریا پر لیجا کر شرمندگی ہی ہوئی۔مجھے اپنے لڑکپن کا وہ زمانہ یاد ہے جب ہم رات کو کھانے کے بعد ریڈیو سٹیشن کی سڑک سے نیچے اتر کر پرانا پل عبور کر کے سامنے موجود دکانوں سے سرکنڈوں سے بنی ٹوکریوں میںآم لیتے،ختم شدہ نیلم پارک جا کر دریائے نیلم(کشن گنگا) کے کنارے برفانی ٹھنڈے پانی میں ٹوکری رکھ کر اسے تند موجوں میں بہہ جانے سے بچانے کے لئے پتھروں میں دبا دیتے،نیلم کے ٹھنڈے پانی میں زیادہ دیر تک کھڑا رہنے کا مقابلہ کرتے ،شدید گرمی میں بھی نیلم پار ک میں سردی محسوس ہوتی تھی۔یہ سلسلہ نیلم پارک قائم رہنے تک چلتا رہا اور اس پارک کے اجڑنے کے دوران بھی میں وہاں خاص طور پہ جاتا رہا۔نیلم دریا پر ڈوگرہ دور کا پرانا پل آزاد کشمیر کی بڑی برادریوں،قبیلوںمیں ایک ایسی ” اقلیت“ کی مانند نظر آتا ہے جسے کسی اچھوت کی طرح الگ تھلگ اور نظر انداز کر دیا گیا ہو۔

 نیلم دریا کے کسی کنارے جانے کا سوچا لیکن کوئی مناسب جگہ نہ سوجھی۔اس پر بچوں کو گڑھی دوپٹہ روڈ پہ دریائے جہلم کے کنارے لیجانے نکلے۔نیلم اور جہلم دریاﺅں کے ملاپ کی مناسبت کے نام دومیل کے قائد اعظم برج کو عبور کر کے بائیں مڑے تو سامنے جگہوں کے ناموں کے آخر میں چکوٹھی اور پھر سرینگر لکھا ہوا تھا، اس پر مجھے خیال آیا کہ چکوٹھی سے آگے تو اوڑی آتا ہے،بارہمولہ آتا ہے اور پھر سرینگر ۔دومیل میں ڈوگرہ دور کے تاریخی پل اور اس سے ملحقہ بارہ دری کی ابتر حالت دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ آزاد کشمیر میں تاریخی ،قدیم جگہوں کو محفوظ اور بہتر رکھنے پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ سالہا سال پہلے اس وقت کے وزیر اعظم سردار سکندر حیات خان نے دومیل کی اس تاریخی بارہ دری کو خصوصی طور پر بہتر بناتے ہوئے اسے ایک اچھے سیاحتی مقام میں تبدیل کر دیا تھا ۔اس وقت پرانی تاریخی عمارات کی مرمت کے انداز میں بارہ دری کی ٹوٹی ہوئی ٹائلوں کی مرمت کی گئی۔بارہ دری کا ایک حصہ جہاں سیاحوں کے بیٹھنے کی جگہ تھی،سیلاب برد ہونے کے بعد سے تا حال تباہ و برباد ہے ۔دوسرا حصہ بھی خستہ حالی کا شکار اور آزاد کشمیر حکومت کی بے اعتنائی کی مثال بنی ہوئی ہے۔

کرولی کے مقام پر مناسب جگہ دیکھ کر دریائے جہلم کے کنارے اترے، میں اپنے بچپن کی یاد تازہ کرنے کے شوق میں ساتھ آم خرید لایا تھا۔اشتیاق میں جہلم کے پانی میں ہاتھ ڈالا تو بہت مایوسی ہوئی ، ٹھنڈے پانی کی توقع تھی لیکن نیم گرم قسم کے پانی سے واسطہ پڑا۔آم کا تھیلا دریا میں رکھ کر اس پر پتھر رکھنے لگا تو احساس ہوا کہ اس گندے سے گرم سے پانی میں آم رکھنے کا کیا مقصد؟ دریا کے پتھر پھسلن والے چکنے۔بھائی نے کہا کہ میں نے تو پہلے کہا تھا کہ جہلم میں تمام کشمیر کی گندگی آتی ہے جو جہلم کے کناروںکے پتھروں پہ بھی دیکھی جا سکتی ہے۔مجھے یاد ہے کہ 1991-92ءمیں اسی مقام پردریائے جہلم کاپانی نیلم دریا جتنا تو نہیں لیکن کافی ٹھنڈا اور اب کے مقابلے میں صاف ہوتا تھا۔مجھے دریائی کنارہ تو کیا آم سے بھی نفرت سی محسوس ہونے لگی۔

اگلے روزپیر چناسی جانے کا ارادہ تھا،سامان گاڑی میں رکھ دیا گیا لیکن گاڑی میں بیٹھتے بیٹھتے نیلم ویلی جانے کا پروگرام بن گیا۔مظفر آباد سے نیلم ویلی کے ضلعی ہیڈ کواٹر اٹھمقام،کیرن جانے والی سڑک تو اچھی بن گئی ہے لیکن اس روڈ پر نئے سلائیڈنگ ایریا ز بھی بن گئے ہیں۔مظفر آباد سے نکلتے ہی سڑک پہ لینڈ سلائنڈنگ والے کئی حصے آتے ہیں جہاں ہر وقت پتھر گرنے ،لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ رہتا ہے۔پٹہکہ بلکہ دیولیاں تک نئی لینڈ سلائیڈنگ کے متعدد خطرناک حصے بن گئے ہیں۔جاتے ہوئے تو راستہ ٹھیک ہی تھا لیکن واپسی پہ بارشوں کے بعد سلائینڈنگ کے نئے حصے سامنے آئے جس سے ٹریفک بعض اوقات گھنٹوں پھنسی رہتی ہے۔دیولیاں کے مقام پہ چین کی ایک کمپنی بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پہ کام کر رہی ہے۔یہ مقام عبور کرتے ہی وادی نیلم کی رنگینیاں جلوہ افروز ہونے لگتی ہیں۔دریائے نیلم جس کا قدیم نام کشن گنگا ہے، سڑک کے دائیں ہاتھ بہتا جاتا ہے۔وادی نیلم کی رنگینیوں کے ساتھ ہی کنٹرول لائین کے نام سے غیر انسانی بے انصافی پر مبنی کشمیر اور اس کے باشندوں کی جبری تقسیم کی المناک صورتحال بھی نظروں کے سامنے آ جاتی ہے۔

دوپہر کا کھانا راستے میں سڑک کنارے ایک ایسے مقام پہ کھایا جس کے سامنے مقبوضہ کشمیر کے علاقے کا پہاڑتھا۔ دوپہر کے بعد اٹھمقام پہنچے، پی ڈبلیو ڈی ریسٹ ہاﺅس میں چائے کے بعد کیرن روانہ ہوئے۔کیرن ریسٹ ہاﺅس سے پہلے ٹینٹ ولج سائٹ سے ملحقہ جگہ پہ دریا کنارے اترے۔دریا کا پانی ٹھنڈا اور اس کا زورداربہاﺅ کنارے پہ بیٹھ کر ہیبت ناک لگتا تھا۔چند سال قبل کیرن ریسٹ ہاﺅس سے پہلے دریا کنارے ایک دیوار تعمیر کرنے سے یہ تمام کچی جگہ وجود میں آئی ہے۔اس کے سامنے ہی بھارتی مقبوضہ کشمیر کا علاقہ ہے جہاں ریسٹ ہاﺅس کی طرح کی کئی عمارات کے علاوہ مقامی آبادی کے گھر بھی نظر آتے ہیں۔دریا کے دونوں طرف رشتہ دار بستے ہیں لیکن عالمی برادری کی آشیر باد میں بھارت و پاکستان کی قائم کردہ کنٹرول لائین نے انہیں فوج کے ذریعے ایک دوسرے سے ملنے سے روکا ہوا ہے۔وہ ایک دوسرے کو دیکھ تو سکتے ہیں لیکن بات نہیں کرسکتے۔

رات کو کٹن کے مقام پر قائم ہائیڈرو لیکٹرک بورڈ کے ریسٹ ہاﺅس میں قیام رہا۔کٹن ریسٹ ہاﺅس میں سیاحوں کی بھرمار ہے لیکن فقط چند ہی ملازم رکھنے کی وجہ سے سیاحوں کو کھانا پینا گھنٹوں انتظار کے بعد ملتا ہے اور ریسٹ ہاﺅس گندگی سے اٹا ہوا ہے ۔کنڈل شاہی میں نالہ جاگراں کی گزشتہ دنوں کی تباہ کاریوں کا نشانہ بننے والی دکانیں بھی دیکھیں،نالہ جاگراں کی اس طغیانی میں کٹن اور جاگراں پاور سٹیشن روڈ کو بھی شدید نقصان پہنچاہے۔کنڈل شاہی سے کٹن تک کی شاندار سڑک اب خطرناک سے کچے راستے میں تبدیل ہو چکی ہے۔کنڈل شاہی میں ایک چھوٹا پاور سٹیشن بھی ہے جس کے لئے جاگراں نالے سے پانی موڑنے کے مقام پر قائم مصنوعی آبشار سیاحوں کے لئے ایک دلکش جگہ ہے۔لو ہے کے بنے ایک چھوٹے پل کو عبور کر کے نالے کے دوسرے جانب جاگراں کے پانی اور اس کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے کی ایک اچھی جگہ ہے۔

اگلے روز اتفاق سے اٹھمقام کے پہاڑوں کی کچھ بلندی پہ بنے ایسے چندایسے گھر دیکھنے کا موقع ملا جو بہک میں جانور چرانے کے مقصد سے گرمیوں کے سیزن میں رہنے کے لئے بنائے جاتے ہیں۔لکڑی سے بنے ان گھروں کی ایک الگ ہی دنیا تھی۔اس کے بعد کیرن سے ہوتے ہوئے پہاڑ کے اوپر نیلم گاﺅں گئے۔نیلم گاﺅں کی بلندی سے دریا پار مقبوضہ کشمیر کے علاقے کے خوبصورت مناظر دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم کوئی بہت بڑی بہت خوبصورت سینری کا پوسٹر دیکھ رہے ہوں۔

نیلم گاﺅں میں بنے ٹورازم کے ریسٹ ہاﺅسز اورنجی گیسٹ ہاﺅسز میں کراچی،پنجاب وغیرہ کے سیاحوں کی بڑی تعداد نظر آئی۔نیلم گاﺅں کے پہاڑ سے نیچے اتر کر شاردہ کی جانب چند ہی کلومیٹر فاصلے پہ واقع نگدر پہنچے ۔نگدر نالے کا پانی نیلا اور دودھیا ہے،یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے نالے میں دودھ بہہ رہا ہو۔تین چار لکڑی کی بنی دکانوں اور ایک لکڑی سے بنے ہوٹل پر مشتمل نگدر بازار میں گاڑی کے عقب میں بیٹھے ہم چائے پی رہے تھے کہ سامنے کی دکان سے ایک بزرگ آئے،ان سے باتیں ہوئیں،انہوں نے کہا کہ میں یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ یہ کون بازار میں اس طرح بیٹھ کر چائے پی رہا ہے کیونکہ پنجاب اورسندھ وغیرہ سے آنے والے سیاح ان بازاروں میں اس طرح نہیں ٹہرتے۔میں نے جب ان سے یہ کہا کہ میں بھی کشمیری ہوں ،یہ جگہ مجھے اپنے گھر کی طرح ہی محسوس ہوتی ہے اور اسی لئے مجھے اس بازار میں اپنی فیملی کے ساتھ رکنا کوئی عجیب نہیں لگا ،تو وہ بزرگ بہت خوش ہوئے۔

 ڈوبتے سورج کے لمحات اٹھمقام کے پی ڈبلیو ڈی ریسٹ ہاﺅس کے لان میں گزرے۔ریسٹ ہاﺅس کے باہر کے گھنے درختوں کی چھاﺅں میں خوبصورت سڑک پہ چلنا پر لطف رہا۔دل تو کیا کہ رات کے وقت اٹھمقام کی مرکزی سڑک پہ دریا کے ساتھ ساتھ چہل قدمی کی جائے لیکن دور سے ہی معلوم ہو گیا کہ بازار میں آوارہ کتوں کے غول دندناتے پھر رہے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں تو آوارہ کتوں کو مارنا قانونا جرم ہے ،اب معلوم نہیں کہ اٹھمقام کے بازار میں پھرنے والے ان آوارہ کتوں کو کس کی پشت پناہی حاصل ہے۔اگلے روز کیرن میں نیلم اور کشن گنگا سے اجتماعی ملاقات اور کنڈل شاہی میں دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد واپس مظفر آباد کی جانب روانہ ہو گئے۔دیولیاں سے آگے پٹہکہ سے پہلے چند مقامات سے سڑک لینڈ سلائنڈنگ کی وجہ سے بند تھی۔تقریبا ایک گھنٹے انتظار کے بعد راستہ کھل گیا۔

نیلم ویلی کو اگر قدرتی حسن کا شاہکار کہا جائے تو بیجا نہ ہو گا۔حسین جھیلوں،دلکش رنگوں، نظاروں،چھوٹی وادیوں،برفانی پانی والی ندی نالوں ،دریائے نیلم کی اس سرزمین سے مجھے ہمیشہ عشق سا محسوس ہوا۔عوام کو عموما وادی نیلم کے آخری علاقے شونٹر اور دوسری طرف ہلمت ،تاﺅبٹ بتائے جاتے ہیں لیکن یہاں سے آگے منی مرگ اور آگے دیوسائی کا میدان بھی ہے جس کے قدرتی حسن کے جلوے دیومالائی تاثر لئے ہوئے ہیںلیکن شاید منی مرگ اور دیو سائی اور اس طرف جانے والے راستے آزاد کشمیر حکومت کے اختیار اور دلچسپی سے خارج ہیں۔آزاد کشمیر میں سیاحت کو فروغ دینے کا چرچا تو بہت کیا جاتا ہے لیکن عملا آزاد کشمیر حکومت نظر کی اس خوبصورتی سے بھی محروم نظر آتی ہے جو آزاد کشمیر کے سیاحتی علاقوں میں سیاحتی ضروریات کے مقامات تیار کر سکے ۔

مثال کے طور پر دریائے نیلم اور جہلم کے کسی مقام پر سیاحوں کے بیٹھے کے لئے مناسب اور مخصوص جگہوں کی تیاری پر کوئی توجہ نہیں ،دریا تو ہیں لیکن سیاحوں کو اس کے کنارے بیٹھنے کی کوئی جگہ میسر نہیں۔سیاحوں کو نہ تو علاقے کے بارے میں معلومات میسر ہیں اور نہ ہی میدانی علاقوں سے آنے والوں کو وادی نیلم داخل ہوتے وقت ڈرائیونگ سے متعلق ضروری ہدایات دی جاتی ہیں ۔ تیز رفتاری اور غفلت سے ڈرائیونگ کے نتائج حادثات کی صورت نظر آتے ہیں۔مظفر آباد ڈویژن سیاحت کے حوالے سے آزاد کشمیر کا اہم ترین علاقہ ہے لیکن سیاحت کے فروغ اور سیاحتی سہولیات کے حوالے سے حکومت کی کاروائیاں ناکافی ہیں۔یہ تو ہر علاقے کی بلدیہ کا کام ہے کہ وہ اپنے علاقے میں خصوصا دریاﺅں کے کنارے سیر گاہیں قائم کریں لیکن بلدیاتی ،ترقیاتی ادارے اور حکومت کی طرف سے فروغ سیاحت کے اقدامات ہنوز منتظر عمل ہیں۔